10 دسمبر 2014 - 10:32
دوحہ میں خلیج فارس تعاون کونسل کا اجلاس

خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کا پینتیسواں اجلاس، نودسمبر کو دوحہ میں ہو رہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کا پینتیسواں اجلاس، نودسمبر کو دوحہ میں ہو رہا ہے۔ لیکن اس اجلاس میں خلیج فارس تعاون کونسل کے سارے سربراہان موجود نہيں رہیں گے۔ صحافتی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ عمان، سعودی عرب ، اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان دوحہ اجلاس میں موجود نہيں رہيں گے۔ اس مسئلے سے ثابت ہوتا ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے اراکین کےدرمیان اختلافات پوری طرح باقی ہیں۔

اس سب کے باوجود جوچیزخلیج فارس تعاون کونسل کے اجلاس کو دوسرے اجلاسوں سے ممتاز کرتی ہے وہ اس وقت علاقے کے خاص حالات ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جد وجہد کو دوحہ اجلاس کے اہم ترین بنیادی موضوعات میں بتایا جا رہا ہے۔ اگرچہ سعودی عرب اور قطر جیسے خلیج فارس تعاون کونسل کے بعض اراکین ، گذشتہ برسوں کے دوران القاعدہ اور داعش جیسے گروہوں کے حامی رہے ہيں لیکن ان گروہوں کی بڑے پیمانے پر سرگرمیاں علاقائی سطح پر ان کے مالی حامیوں کے لئے بھی سنگین خطرہ بن گئي ہیں۔ یہاں تک کہ سعودی عرب نے بھی ابھی کچہ دنوں پہلے ہی دہشتگردی اور داعش کے خلاف جد جہد کے سلسلے میں بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی تھی۔

تیل کی قیمتوں میں کمی بھی خلیج فارس تعاون کونسل کےاراکین کے درمیان اختلاف پیدا ہونے کا باعث بنی ہے۔ا س بات کے پیش نظر کہ اوپک کی برآمدات میں خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کا حصہ ایک تہائی ہے لہذا اس کونسل کے رکن ممالک اس کوشش میں ہیں کہ تیل کی پیداوار، اس کی قیمت کے تعین اور برآمدات کے سلسلے میں اوپک میں خصوصی کردار ادا کرنا چاہتے ہيں لیکن اس وقت اوپک کے تیل کی قیمت ایسی ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے بعض اراکین بھی تشویش میں مبتلاء ہيں۔

اگرچہ اس موضوع سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی میں خلیج فارس تعاون کونسل کے اراکین کابھی ہاتھ ہے۔اس کے باوجود ایسا نظرآتا ہے کہ تیل کی قیمت کے سلسلے میں سیاسی داؤں پیچ نےاس وقت جنوبی خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے یہاں تک کہ یہ ممالک بھی تیل کی قیمت میں اضافے کے لئے کوئي چارہ اندیشی کوضروری سمجھنے لگے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرے موضوعات بھی ہیں جن کے سلسلے میں  خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک حساس ہیں ۔ شام اور عراق کے حالات بھی ، خلیج فارس تعاون کونسل کے اراکین کے اجلاس میں اٹھائے جانے والے موضوعات میں شامل ہیں۔

لیکن اس وقت اس میں مصر کے حالات بھی شامل کردیئے گئے ہیں۔ مصر میں جب سے السیسی نے اقتدار سنبھالا ہے جنوبی خلیج فارس کے بعض ممالک نے ان کی پوزيشن مضبوط کرنے کےلئے سرمایہ کاری کی ہے ۔

حتی سعودی بادشاہ ملک عبداللہ نے خلیج فارس تعاون کونسل کے اراکین سے مطالبہ کیا ہے کہ باہمی کدورتوں کو دور کرتے ہوئے مصر کی حمایت کریں تاکہ دوست ممالک کے درمیان نیا اتفاق رائے قائم ہوسکے۔ اس موقف سے پتہ چلتا ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل ایک دوسرے کے ساتھ رقابت اور ناراضگی کے باوجود، کم سے کم موجودہ دور میں عربوں کےدرمیان یکجہتی پر یقین کرتے ہوئے اس کوشش میں ہیں کہ جس طرح بھی ممکن ہو اسے عملی جامہ پہنائے۔

کئی میہینوں کی کشیدگی کے بعد اپنے سفیر دوحہ بھیجنے کے خلیج فارس تعاون کونسل کے بعض ممالک کے فیصلے اس بات کا ثبوت ہيں کہ اس وقت ان ممالک کے مد نظر ناراضگی سے زیادہ آشتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169